10 فروری 2012 - 20:30

دارالحکومت تہران میں اسلامی انقلاب کی تینتیسویں سالگرہ اور یوم آزادی کے جلوسوں کا سلسلہ صبح نوبجے سے شروع ہوا۔

ابنا: تہران کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے یوم آزادی کے جلوس اپنے معینہ راستوں سے گزرکے تہران کے آزادی اسکوائر پر پہنچ کے دسیوں لاکھ کے عظیم الشان اجتماع میں تبدیل ہوگئے ۔

تہران میں یوم آزادی کی عظیم الشان ریلی  میں ملک کے اعلی حکام سیاسی شخصیات ،علمائے کرام، اور معاشرے کے سب ہی طبقے کے لوگوں، بوڑھے جوان، عورتوں، مردوں  اور بچوں  سبھی نے بھر پور شرکت کی ہے۔

ریلی میں شریک لوگوں کے ہاتھوں میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ اور قائدانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ کی تصاویر اور ایران کے قومی پرچم کے ساتھ ہی فلسطین اور بحرین کے پرچم بھی نظر آئے۔

آزادی اسکوائر پر ریلی سے صدر مملکت اور فلسطین کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے خطاب کیا اور ریلی کے اختتام پرایک قرار داد پاس کی گئی جس میں اسلامی بیداری کو دنیا میں اسلام کی حکمرانی کی نوید قرار دیا گیا ہے۔

  اسلام انقلاب کی تینتیسویں سالگرہ کی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قوم نے ایسی حالت میں مقدس اسلامی نظام کے چونتیسویں سال میں قدم رکھا ہے کہ قاہرہ، طرابلس، منامہ، اور تیونس کی سڑکوں پر ایران کے اسلامی انقلاب کے زمانے کے ہی مناظر کا مشاہدہ کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی روم ، پیرس ، لندن ، نیویارک اور واشنگٹن میں بھی تحریک بیداری شروع ہوچکی ہے۔  قرار داد میں  غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں تحریک مزاحمت اور اسی طرح شام  کے خلاف عالمی استعمار کی شیطانی سازشوں کی مذمت اور فلسطین کی تحریک مزاحمت کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔قرار داد میں سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں ایران اسلامی کی حیرت انگیز پیشرفت کو شہدائے علم و دانش اور اس میدان میں مجاہدت کرنے والے مخلص سائنسدانوں کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا گیا اور ایرانی سائنسدانوں کو دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنانے کی استعماری اور صیہونی سازش کی مذمت کی گئی۔قرار داد میں پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کو ایرانی قوم کا مسلمہ حق قرار دیتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ ایرانی قوم  اپنے اس حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگی اور پر امن مقاصد کے لئےاس قوم کی ایٹمی پیشرفت جاری رہے گی۔

.......

/169